محبت
مجبت دوڑ نہیں ہوتی۔ طوفان نہیں ہوتی، سکون ہوتی یے۔ دریا نہیں یوتی، جھیل ہوتی یے۔ دوپہر نہیں ہوتی، بھور سمے ہوتی یے۔ آگ نہیں ہوتی، اُجلا ہوتی یے۔ اب میں تُجھے کیا بتاؤں کہ کیا ہوتی یے وہ بتانے کی چیز نہیں، بیتنے کی چیز یے۔ سمجھنے کی چیز نہیں، جاننے کی چیز یے۔
No comments:
Post a Comment